14 اکتوبر، 2026، 9:40 AM

مہر نیوز کی خصوصی رپورٹ:

ایران کے خلاف جنگ، توانائی کے بحران اور انتخابی خدشات نے ٹرمپ کو بوکھلا دیا

ایران کے خلاف جنگ، توانائی کے بحران اور انتخابی خدشات نے ٹرمپ کو بوکھلا دیا

امریکی جریدے دی اٹلانٹک کے مطابق، ایران کے خلاف جنگ ختم کرنے میں ناکامی نے ڈونلڈ ٹرمپ کو شدید غصے اور سیاسی بے یقینی سے دوچار کر دیا ہے، جبکہ توانائی کی بڑھتی ہوئی قیمتوں اور انتخابی خدشات نے وائٹ ہاؤس کی مشکلات میں مزید اضافہ کر دیا ہے۔

مہر خبررساں ایجنسی، بین الاقوامی ڈیسک: ایران کے خلاف چار دن میں فتح حاصل کرنے کے دعوے کے ساتھ جنگ شروع کرنے کے بعد آٹھ مہینے گزر گئے لیکن جنگ جاری ہے اور ایران شکست کے بجائے جنگ میں فاتح ہوکر ابھر رہا ہے۔ اس صورتحال نے امریکی صدر ٹرمپ کو سخت پریشانی میں مبتلا کردیا ہے۔

امریکی جریدے دی اٹلانٹک نے اپنی ایک رپورٹ میں قریبی ذرائع کے حوالے سے بتایا ہے کہ ایران کے ساتھ جنگ ختم کرنے میں ناکامی نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو شدید برہم کر دیا ہے، جبکہ اس صورت حال نے ان کے سیاسی فیصلوں اور حکمتِ عملی کے لیے دستیاب گنجائش کو بھی غیر معمولی طور پر محدود کر دیا ہے۔

رپورٹ کے مطابق، ٹرمپ جو عالمی رہنماؤں اور ذرائع ابلاغ کی توجہ حاصل کرنے کے عادی ہیں، اب ایسی صورتِ حال کا سامنا کر رہے ہیں جس میں نہ ان کی دھمکیاں ایران کو پیچھے ہٹنے پر مجبور کر سکی ہیں اور نہ ہی واشنگٹن کے سیاسی و اقتصادی دباؤ سے مطلوبہ نتائج حاصل ہو سکے ہیں۔

دی اٹلانٹک کے مطابق، ایران کی جانب سے امریکی مطالبات تسلیم نہ کیے جانے کے باعث ٹرمپ کے لیے صورتِ حال پر قابو رکھنا مشکل ہوتا جا رہا ہے۔ رپورٹ میں آبنائے ہرمز میں تیل بردار جہازوں کی آمدورفت سے متعلق دوبارہ سامنے آنے والی دھمکیوں اور امریکہ میں ڈیزل کی قیمتوں میں اضافے کا بھی ذکر کیا گیا ہے۔ ان عوامل نے امریکی شہریوں کے لیے معاشی مشکلات بڑھا دی ہیں اور ریپبلکن پارٹی میں جنگ کے انتخابی اثرات کے حوالے سے تشویش میں اضافہ کر دیا ہے۔

امریکی جنگی اہداف اور زمینی حقائق میں بڑھتا ہوا فاصلہ

ٹرمپ کے لیے اصل مسئلہ صرف ایران کے ساتھ جنگ کا طول پکڑنا نہیں، بلکہ امریکہ کے اعلان کردہ مقاصد اور عملی نتائج کے درمیان بڑھتا ہوا فرق بھی ہے۔ امریکی حکومت نے اس تصور کے تحت جنگ شروع کی تھی کہ امریکہ کی فوجی برتری اور عملی صلاحیتیں مختصر وقت میں تہران کے حساب کتاب کو تبدیل کر دیں گی اور واشنگٹن کے مطالبات منوانے کی راہ ہموار ہو جائے گی۔ تاہم، موجودہ صورتِ حال نے ظاہر کیا ہے کہ محض فوجی برتری سیاسی مقاصد کے حصول کی ضمانت نہیں ہوتی۔

کسی ملک کی فوجی طاقت کو مطلوبہ سیاسی نتائج میں تبدیل کرنے کے لیے عسکری صلاحیت کے علاوہ متعدد دیگر عوامل بھی اہم ہوتے ہیں۔ ایران کے ساتھ جاری بحران نے اس حقیقت کو نمایاں کیا ہے کہ جنگ کے میدان میں برتری حاصل کرنا اور سیاسی سطح پر فیصلہ کن کامیابی حاصل کرنا دو مختلف معاملات ہیں۔

جیسے جیسے ابتدائی اہداف اور حاصل ہونے والے نتائج کے درمیان فرق بڑھتا ہے، جنگ جاری رکھنے کے سیاسی اخراجات بھی بڑھتے جاتے ہیں۔ ایک طرف ٹرمپ کو ان توقعات کا جواب دینا پڑ رہا ہے جو انہوں نے امریکی طاقت کا مظاہرہ کرنے اور جلد کامیابی حاصل کرنے کے وعدوں کے ذریعے پیدا کی تھیں، تو دوسری طرف انہیں جنگ کے معاشی اور سیاسی نتائج کا بھی سامنا ہے۔

اس صورتِ حال نے وائٹ ہاؤس کے لیے فیصلہ کرنا مشکل بنا دیا ہے۔ اگر امریکہ اپنے اعلان کردہ اہداف حاصل کیے بغیر پیچھے ہٹتا ہے تو اس سے ٹرمپ کی سیاسی ساکھ کو شدید نقصان پہنچا سکتا ہے، جبکہ جنگ جاری رکھنے کی صورت میں اخراجات اور دباؤ میں مزید اضافہ ہونے کا خدشہ ہے۔

آبنائے ہرمز اور بڑھتے ہوئے معاشی اثرات

اس بحران کا ایک اہم پہلو یہ ہے کہ مشرق وسطی کی سلامتی کی صورت حال عالمی معیشت اور امریکی شہریوں کی روزمرہ زندگی پر اثر انداز ہو رہی ہے۔ آبنائے ہرمز عالمی توانائی کی ترسیل کے لیے ایک انتہائی اہم بحری گزرگاہ ہے۔ یہاں جہازوں کی آمدورفت میں کسی بھی قسم کی رکاوٹ عالمی منڈیوں میں بے یقینی پیدا کر سکتی ہے، جس کے نتیجے میں توانائی اور نقل و حمل کے اخراجات بڑھ سکتے ہیں۔

دی اٹلانٹک کی رپورٹ میں امریکہ میں ڈیزل کی اوسط قیمت چھ ڈالر فی گیلن سے تجاوز کرنے کا ذکر کیا گیا ہے۔ یہ اضافہ امریکی معیشت پر جنگ کے اثرات کی ایک نمایاں مثال کے طور پر پیش کیا گیا ہے۔

ایندھن کی قیمتوں میں اضافہ صرف گھریلو صارفین کے اخراجات تک محدود نہیں رہتا۔ امریکہ میں اشیائے صرف کی ایک بڑی مقدار ٹرکوں کے ذریعے منتقل کی جاتی ہے۔ چنانچہ ڈیزل مہنگا ہونے سے نقل و حمل کے اخراجات بڑھتے ہیں، جس کے نتیجے میں اشیاء کی مجموعی قیمتوں میں بھی اضافہ ہو سکتا ہے۔ اس طرح بیرون ملک شروع ہونے والا بحران رفتہ رفتہ امریکی شہریوں کی روزمرہ معاشی زندگی کا حصہ بن جاتا ہے۔

ٹرمپ حکومت کے لیے یہ صورت حال اس لیے بھی اہم ہے کہ عوام عموماً مہنگائی اور بڑھتے ہوئے اخراجات کو موجودہ حکومت کی کارکردگی سے جوڑتے ہیں۔ زندگی کے اخراجات کم کرنے، مہنگائی پر قابو پانے اور معیشت مضبوط بنانے کے وعدے اس وقت سوالات کی زد میں آجاتے ہیں جب ایندھن کی قیمتیں بڑھنے لگتی ہیں اور گھرانوں و کاروباری اداروں پر اضافی مالی دباؤ پڑتا ہے۔ ایسے حالات میں فوجی کامیابیوں کے دعوے بھی ضروری نہیں کہ عوامی سطح پر بڑھتی ہوئی معاشی بے چینی کو ختم کرسکیں۔

ریپبلکن پارٹی کو انتخابی نقصان کا خدشہ

دی اٹلانٹک کی رپورٹ کے مطابق، ریپبلکن رہنماؤں کو خدشہ ہے کہ توانائی کی قیمتوں میں اضافے سے آئندہ وسط مدتی انتخابات میں ڈیموکریٹک پارٹی کی پوزیشن مضبوط ہوسکتی ہے اور ریپبلکن پارٹی ایوان نمائندگان اور سینیٹ میں اپنا کنٹرول کھوسکتی ہے۔ یہ تشویش ظاہر کرتی ہے کہ ایران کے ساتھ جنگ کے نتائج صرف خارجہ پالیسی اور فوجی تعلقات تک محدود نہیں ہیں، بلکہ وہ امریکہ کے داخلی سیاسی توازن کو بھی متاثر کرسکتے ہیں۔

وسط مدتی انتخابات امریکی صدر کے لیے خصوصی اہمیت رکھتے ہیں، کیونکہ کانگریس میں جماعتی توازن تبدیل ہونے سے حکومت کے لیے اپنے منصوبوں پر عمل درآمد مشکل ہوسکتا ہے۔ اس کے علاوہ وائٹ ہاؤس کو سیاسی دباؤ اور پارلیمانی نگرانی میں اضافے کا سامنا بھی کرنا پڑسکتا ہے۔

اس تناظر میں ایندھن کی بڑھتی ہوئی قیمتیں اور معیشت کے بارے میں خدشات ریپبلکن پارٹی کے لیے محض عوامی مسائل نہیں، بلکہ حکومت کی کارکردگی اور انتخابی نتائج کا تعین کرنے والے اہم عوامل بھی ہیں۔

ٹرمپ کو اس وقت ایک بنیادی تضاد کا سامنا ہے۔ اپنی مضبوط قیادت کا تاثر برقرار رکھنے کے لیے وہ امریکی ارادے مسلط کرنے اور کامیابی دکھانے کے خواہاں ہیں، لیکن ایسے بحران کا جاری رہنا جس کے معاشی اخراجات امریکی شہریوں کو برداشت کرنا پڑ رہے ہیں، ان کی اسی سیاسی شبیہ کو نقصان پہنچا سکتا ہے۔ جنگ جتنی طویل ہوگی، اس کے جاری رہنے کی وجوہات بیان کرنا اور عوام کو اس کے اخراجات برداشت کرنے پر آمادہ کرنا اتنا ہی مشکل ہوتا جائے گا۔

یوکرین؛ ذمہ داری دوسروں پر ڈالنے کی کوشش؟

دی اٹلانٹک نے اپنی رپورٹ کے ایک اور حصے میں لکھا ہے کہ ٹرمپ موجودہ صورتِ حال کے لیے کسی ذمہ دار کی تلاش میں ہیں اور بظاہر وہ بعض مسائل کا ذمہ دار یوکرین کو قرار دیتے دکھائی دیتے ہیں۔ تاہم، عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں اضافے کی ذمہ داری ایسے ملک پر ڈالنا جو اپنے وجود کو لاحق خطرات کا مقابلہ کر رہا ہو، کئی سوالات کو جنم دیتا ہے۔ اس تناظر میں یوکرین کو موردِ الزام ٹھہرانے کی کوشش کو امریکی حکومت کی جانب سے ایران کے خلاف جنگ شروع کرنے کے فیصلے سے عوامی توجہ ہٹانے کی کوشش کے طور پر بھی دیکھا جا سکتا ہے۔

البتہ عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں کا تعین متعدد عوامل سے ہوتا ہے، جن میں رسد و طلب، مارکیٹ کی توقعات اور جغرافیائی و سیاسی حالات شامل ہیں۔ اس لیے توانائی کی قیمتوں میں ہونے والی تمام تبدیلیوں کو کسی ایک ملک یا ایک واقعے سے منسوب نہیں کیا جا سکتا۔ اس کے باوجود دی اٹلانٹک کی رپورٹ کا اہم نکتہ یہ ہے کہ ٹرمپ اپنی پالیسی کے نتائج کا سامنا کس انداز میں کر رہے ہیں اور موجودہ مشکلات کی ذمہ داری دوسروں پر منتقل کرنے کی کوشش کس حد تک ان کی حکمتِ عملی کا حصہ ہے۔

حاصل سخن

مجموعی طور پر دی اٹلانٹک کی رپورٹ اس امر کی نشاندہی کرتی ہے کہ ایران کے خلاف جنگ ٹرمپ کے لیے ایک مشکل امتحان بن چکی ہے۔ اس بحران نے ظاہر کیا ہے کہ امریکی فوجی طاقت بذات خود جنگ سے نکلنے کا آسان راستہ فراہم نہیں کر سکتی۔ محدود ہوتے سیاسی اختیارات، بڑھتے ہوئے معاشی اخراجات اور انتخابی نتائج کے بارے میں خدشات نے امریکی صدر کے لیے فیصلہ سازی کی گنجائش کم کر دی ہے۔

واشنگٹن کے لیے اب بنیادی سوال صرف یہ نہیں کہ ایران کے ساتھ محاذ آرائی کو کس طرح جاری رکھا جائے، بلکہ یہ بھی ہے کہ اس بحران کو کس طرح ختم کیا جائے تاکہ امریکہ کو بھاری سیاسی اور تزویراتی قیمت ادا نہ کرنا پڑے۔ جنگ جتنی طویل ہوتی جائے گی، ٹرمپ کے ابتدائی وعدوں اور موجودہ حقائق کے درمیان تضاد اتنا ہی نمایاں ہوتا جائے گا۔ یہی تضاد ان کے لیے سب سے بڑا سیاسی چیلنج بن سکتا ہے۔

News ID 1942099

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
  • captcha